زیتون جان محمد کی کہانی
ایک سلائی مشین نے زندگی کا دھارا بدل دیا
گوادر کے ایک چھوٹے سے علاقے، لالا حسن محلہ کی ایک کچی جھونپڑی میں، زیتون جان محمد ہر رات اپنی پرانی سلائی مشین پر کپڑے سیتے ہوئے گزر بسر کی جدوجہد میں مصروف رہتیں۔ ایک بیوہ اور پانچ بچوں کی ماں ہونے کے ناطے، ہر ٹانکے میں ان کی امید، قربانی اور محبت بُنی ہوتی۔ ان کا بڑا بیٹا دن بھر رکشہ چلا کر بمشکل دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتا۔ 25 ہزار روپے ماہانہ آمدن میں نہ تو گھر کا کرایہ پورا ہوتا، نہ دوائیں، اور نہ ہی بچوں کی تعلیم کے خواب۔
پھر ایک دن، قسمت نے ان کے دروازے پر دستک دی۔گواڈر لسبیلہ لائیولی ہڈ سپورٹ پراجیکٹ (GLLSP) کی ٹیم ان کے در پر آئی۔ زیتون کو جب معلوم ہوا کہ وہ نہ صرف ایک نئی زیگ زیگ سلائی مشین حاصل کر سکتی ہیں بلکہ خواتین کے ملبوسات فروخت کر کے اپنا کاروبار بھی شروع کر سکتی ہیں، تو ان کی آنکھوں میں برسوں سے بجھی ہوئی امید کی چمک واپس آ گئی۔ “میرا نام بھی کوئی لے گا؟” انہوں نے لرزتی آواز میں کہا۔ برسوں بعد ان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
نئی مشین، نئی راہیں
زیگ زیگ مشین ملتے ہی زیتون کی زندگی نے ایک نیا موڑ لیا۔ گاؤں کی عورتیں کڑھائی والے کپڑے سلوانے آنے لگیں۔ شادی بیاہ کے کپڑے، بچوں کے اسکول یونیفارم، اور روزمرہ کے ملبوسات کی مانگ بڑھنے لگی۔ زیتون کی محنت رنگ لائی، اور پہلے ہی مہینے میں ان کی آمدنی بڑھ کر 45 سے 50 ہزار روپے تک جا پہنچی۔
لیکن ان کے لیے سب سے بڑی خوشی کا لمحہ وہ تھا جب انہوں نے اپنے بچوں کو ایک معیاری اسکول میں داخل کرایا۔ وہ کہتی ہیں،
“پہلے میں صرف ان کے لیے خواب دیکھتی تھی، اب ان خوابوں کو پورا ہوتے دیکھ رہی ہوں۔“
جب ہنر خدمت بن جائے
زیتون نے صرف خود کو نہیں سنوارا، بلکہ اپنی کامیابی کو دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کیا۔ اب وہ گاؤں کی دیگر مستحق خواتین کو سلائی سکھاتی ہیں، بالکل مفت۔ ایک بیوہ کو سلائی سکھاتے ہوئے انہوں نے کہا:
“اگر کسی نے میری مدد نہ کی ہوتی، تو شاید آج میں یہاں نہ ہوتی۔“
زیتون جان محمد کا چھوٹا سا گھر اب صرف رہائش کی جگہ نہیں، بلکہ اُمید، ہنر اور خود انحصاری کی ایک ورکشاپ بن چکا ہے۔ زیگ زیگ مشین کی مسلسل چلتی آواز اس عزم کی گواہی دیتی ہے کہ محنت اور اُمید کے دھاگے سے تقدیر کو بدلا جا سکتا ہے۔
“انہوں نے مجھے ایک مشین دی، مگر اصل میں میری خودداری واپس دلائی،“